Home / News / بل گیٹس کی باتیں جو غلط ثابت ہوئیں

بل گیٹس کی باتیں جو غلط ثابت ہوئیں

بل گیٹس کو عام طور پر بہت ذہین، زیرک اور دانشمند سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اربوں ڈالرز بھی آپ کی بات کو غلط ثابت کرنے سے نہیں روک سکتے۔

مجھے اگلے 10 سالوں تک انٹرنیٹ میں کوئی کمرشل صلاحیت نظر نہیں آتی۔ مبینہ طور پر یہ بات بل گیٹس نے 1994ء میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی تھی، جس کا ذکر 2005ء کی ایک کتاب میں کیا گیا ہے۔ اس وقت دنیا کے امیر ترین انسان ہونے کا اعزاز مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کے پاس ہے۔ عام طور پر انہیں بہت ذہین، زیرک اور دانشمند سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اربوں ڈالرز بھی آپ کی بات کو غلط ثابت کرنے سے نہیں روک سکتے۔ آپ نے گیٹس کے اقوال زریں تو بہت پڑھے ہوں گے، آئیے آپ کو ان کی وہ باتیں بھی بتاتے ہیں، جو بعد میں غلط ثابت ہوئیں اور ظاہر کیا کہ دنیا کا امیر ترین شخص بھی غلط بات کر سکتا ہے۔

’’جدید سافٹویئر میکنٹوش پر آئیں گے، آئی بی ایم پی سی پر نہیں‘‘۔ بل گیٹس نے یہ بات 1984ء میں بزنس ویک کے لیے ایک مضمون میں لکھی تھی۔ اس وقت بل گیٹس اور ایپل کے سٹیو جابز کے درمیان بڑی یاری تھی، لیکن جیسے ہی مائیکروسافٹ نے آئی بی ایم پی سی کے لیے ونڈوز جاری کی، اس تعلق کا خاتمہ ہو گیا۔ ونڈوز کے مشہور ہونے سے پہلے مائیکروسافٹ نے آئی بی ایم کے ساتھ مل کر ایک آپریٹنگ سسٹم او ایس/2 تخلیق کیا تھا۔ اس وقت یعنی 1987ء میں گیٹس نے کہا تھا کہ ‘‘میرے خیال میں او ایس/2 سب سے اہم آپریٹنگ سسٹم ہوگا اور تاریخ کا سب سے شاندار پروگرام بھی‘‘ لیکن یہ آپریٹنگ سسٹم نہ چلا۔ جب 1990ء میں ونڈوز 3.0 نے شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا تو مائیکروسافٹ کو آئی بی ایم کی ضرورت بھی نہیں رہی اور وہ او ایس/2 کو یتیم چھوڑ گیا۔ آئی بی ایم اس آپریٹنگ سسٹم کو استعمال کرتا رہا یہاں تک کہ 2006ء میں اس کی باضابطہ موت کا اعلان کر دیا گیا۔

’’ہمارے جاری کردہ سافٹ ویئر میں کوئی بگز نہیں تاکہ صارفین کی ایک بڑی تعداد کو انہیں فکس کرنے کی ضرورت پڑے‘‘۔ گیٹس نے یہ بات 1995ء میں فوکس میگزین میں کہی تھی۔ اپنی 1995ء کی کتاب ’’دی روڈ اہیڈ‘‘ میں بل گیٹس نے اپنی سب سے مشہور غلطیاں کیں۔ انہوں نے لکھا کہ انٹرنیٹ ایک انوکھی چیز تھا جس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ یہ بہتر سے بہترین کی جانب ہماری رہنمائی کرے گا۔ ’’ آج کا انٹرنیٹ میرے تصور والی انفارمیشن ہائی وے نہیں البتہ آپ اسے کسی ہائی وے کا آغاز سمجھتے رہیں‘‘۔ کچھ ہی عرصے میں گیٹس کواندازہ ہو گیا کہ یہ بات غلط ثابت ہو رہی ہے، اس لیے انہوں نے مائیکرو سافٹ کی مشہور ’’دی انٹرنیٹ ٹائیڈل ویو‘‘ یادداشت جاری کیے اور ادارے کو اس سمت میں چلایا۔ 1996ء میں انہوں نے اپنی کتاب کا نظرثانی شدہ ایڈیشن جاری کیا، جس میں انٹرنیٹ کے بارے میں کافی باتیں شامل کی گئیں۔ 2004ء میں گیٹس نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’ای میل سپیم دو سالوں میں ماضی کی چیز بن جائے گی‘‘۔ آج 12 سال بعد بھی ایسا نہیں ہو سکا۔ سیکورٹی کمپنی سیمنٹیک کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں بھیجی گئیں تمام ای میلز کی نصف سپیم پر مشتمل تھیں۔ گیٹس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 1981ء میں کہا تھا کہ ’’640 کے کمپیوٹر میموری کسی بھی شخص کے لیے کافی ہوگی‘‘۔ اگر یہ واقعی سچ ہے تو پھر یہ بات واقعی وہ چھپانا چاہتے ہوں گے کیونکہ اب عام صارف تک سینکڑوں گیگابائٹس تک پہنچ گیا ہے۔ 1996ء میں ایک انٹرویو میں گیٹس نے کہا تھا کہ ’’میں نے بہت ساری بے وقوفانہ اور غلط باتیں کی ہوں گی لیکن یہ بات مکمل طور پر غلط منسوب کی گئی ہے۔ کمپیوٹر کے شعبے سے وابستہ کبھی کوئی شخص یہ بات نہیں کہے گا کہ ایک مخصوص میموری مقدار ہمیشہ کے لیے کافی ہوگی‘‘۔

About ZK-admin

Check Also

Plane Crash In Pakistan

پی آئی اے کا مسافر طیارہ گرکر تباہ

پی آئی اے کا مسافر طیارہ گرکر تباہ چترال سے اسلام آباد جانے والا پی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *