Home / Health / صرف 4 ماہ دوا کھانے سے گنج پن کے علاج میں اہم پیش رفت
صرف 4 ماہ دوا کھانے سے گنج پن کے علاج میں اہم پیش رفت
صرف 4 ماہ دوا کھانے سے گنج پن کے علاج میں اہم پیش رفت

صرف 4 ماہ دوا کھانے سے گنج پن کے علاج میں اہم پیش رفت

صرف 4 ماہ دوا کھانے سے گنج پن کے علاج میں اہم پیش رفت

مردوں اور خواتین میں گنج پن کی وجہ بننے والی ایک عام بیماری ’’ایلوپیشیا‘‘ کا اب علاج تلاش کرلیا گیا ہے جس کے تحت صرف 4 ماہ میں 92 فیصد کامیابی سے لوگوں کے بال دوبارہ اگ آئے ہیں۔ جسم کے امنیاتی نظام سے پیدا ہونے والا ایک قسم کا گنج پن ایلوپیشیا کہلاتا ہے اور ’’ریوکسولیٹنب‘‘ نامی دوا اس کا کامیابی سے علاج کرسکتی ہے۔ یہ دوا ہڈیوں کے گُودے کے کینسر میں پہلے ہی استعمال ہورہی ہے اور خاص اینزائم روک کر بالوں کو دوبارہ اگا سکتی ہے۔ اس بیماری کو جے اے کے انہیبٹر بھی کہاجاتا ہے اور 4 ماہ میں 92 فیصد افراد کے بال دوبارہ اُگ آئے ہیں۔

کولمبیا یونیورسٹی کے میڈیکل سینٹر کے سائنسدانوں کے مطابق اگرچہ اسے چند لوگوں پر آزمایا گیا لیکن کافی ثبوت آگئے ہیں کہ یہ دوا ایلوپیشیا اریٹا کا خاتمہ کرسکتی ہے۔ اس طرح دنیا بھر میں اس کیفیت سے بال کھونے والے ہزاروں لاکھوں افراد میں پھر سے قدرتی بال اگانے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

آدھے سرکا درد فالج اور امراضِ قلب کی وجہ بن سکتا ہے، تحقیق

ایلوپیشیا اریٹا مرد و خواتین میں گنج پن کی دوسری بڑی وجہ ہے اور یہ عمر کے کسی بھی حصے میں حملہ آور ہوسکتی ہے اور اس سے قبل اس کیفیت کا کوئی علاج نہ تھا۔ ماہرین نے 12 ایسے مریضوں پر اس دوا کو آزمایا جو درمیانے سے شدید درجے کے گنج پن کے شکار تھے یعنی ان کے 30 فیصد بال غائب ہوچکے تھے۔ تمام افراد کو 3 سے 6 ماہ تک کے لیے ریوکسولیٹنب کی 20 ملی گرام دوا کھانے کو دی گئی۔ ایلوپیشیا اریٹا میں پہلے سر یا جسم کے کسی بھی حصے پر سکے کے برابر بال غائب ہوجاتے ہیں اور بعد میں بال اگ آتے ہیں لیکن بعض کیفیات میں بال واپس نہیں آتے اور بال گرنے لگتے ہیں۔ دوا لینے کے بعد 9 مریضوں کے 50 فیصد بال لوٹ آئے اور آخر تک 95 فیصد بال دوبارہ بھر گئے۔ اس دوا کا کوئی سائیڈ افیکٹ نظر نہیں آیا۔

About ZK-admin

Check Also

Ladies Handbags Collection

Ladies Handbags Collection

Ladies Handbags Collection Today many different brands are being made available to the people who …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *