Home / News / ٹیرا ہرٹز شعاعوں کے ذریعے کمپیوٹر میموری میں انقلابی اضافے کا طریقہ ایجاد
ٹیرا ہرٹز شعاعوں کے ذریعے کمپیوٹر میموری میں انقلابی اضافے کا طریقہ ایجاد
ٹیرا ہرٹز شعاعوں کے ذریعے کمپیوٹر میموری میں انقلابی اضافے کا طریقہ ایجاد

ٹیرا ہرٹز شعاعوں کے ذریعے کمپیوٹر میموری میں انقلابی اضافے کا طریقہ ایجاد

ٹیرا ہرٹز شعاعوں کے ذریعے کمپیوٹر میموری میں انقلابی اضافے کا طریقہ ایجاد

روسی ماہرین نے ٹیرا ہرٹز شعاعیں استعمال کرتے ہوئے کمپیوٹر میموری کو ایک ہزار گنا تک زیادہ تیز رفتار بنانے کا طریقہ ایجاد کرلیا ہے جس کی بدولت کمپیوٹروں، اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کی دنیا میں انقلاب آسکتا ہے۔ ماسکو انسٹی ٹیوٹ آف فزکس اینڈ ٹیکنالوجی (ایم آئی پی ٹی) میں ماہرین کی ٹیم نے ’’ٹیرا ہرٹز شعاعوں‘‘ (ٹی ریز) کی مدد سے کمپیوٹر میموری کی مقناطیسی حالت کو غیرمعمولی رفتار سے تبدیل کرنے کا عملی مظاہرہ کیا ہے جس کے بعد انہیں امید ہے کہ مستقبل کی کمپیوٹر میموریز کو آج کے مقابلے میں ایک ہزارگنا تک تیز رفتار بنایا جاسکے گا۔ ٹیراہرٹز شعاعوں کی فریکوئنسی مائیکرو ویوز سے زیادہ لیکن انفراریڈ سے کم ہوتی ہے۔ ان شعاعوں کو آج ہوائی اڈوں پر تلاشی لینے والے اسکینروں، غذا کی جانچ پڑتال کرنے والی مشینوں اور (تجرباتی طور پر) کتابوں کو کھولے بغیر پڑھنے کی کوششوں میں استعمال کیا جارہا ہے۔ البتہ یہ پہلا موقعہ ہے جب ان سے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے میدان میں استفادہ کیا گیا ہے۔

ریم جسے کمپیوٹر میموری بھی کہتے ہیں، کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اس بارے میں تمام ضروری اطلاعات (انفارمیشن) اپنے اندر جمع کرتی ہے۔ کام مکمل ہوجانے کے بعد میموری کو بیرونی مقناطیسی میدان (میگنیٹک فیلڈ) کی مدد سے صاف کیا جاتا ہے تاکہ اس میں مزید اطلاعات منتقل کی جاسکیں۔ میموری میں عارضی طور پر محفوظ کی گئی اطلاعات جتنی تیزی سے صاف کی جاسکیں گی اس کی رفتار بھی اتنی ہی تیز ہوگی۔ اس وقت ڈی ڈی آر تھری قسم کی میموریز سب سے تیز رفتار ہیں جن میں ڈیٹا منتقلی کی رفتار (ڈیٹا ٹرانسفر ریٹ) 800 میگابٹس فی سیکنڈ سے 1600 میگابٹس فی سیکنڈ کے درمیان ہے۔

روسی ماہرین نے اپنے تجربات کے دوران میموری صاف کرنے کے لیے ٹیراہرٹز شعاعوں کی مدد سے جو بیرونی مقناطیسی میدان پیدا کیا وہ مروجہ میموری کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ مضبوط تھا جب کہ اس نے ایک ہزارگنا زیادہ تیز رفتاری سے میموری کو ’’ری سیٹ‘‘ کردیا یعنی اس میں موجود اطلاعات کو ختم کردیا۔ یہ ایجادفی الحال ابتدائی نوعیت کی ہے جسے کمپیوٹر میموری کا باقاعدہ حصے بننے میں کئی سال لگ جائیں گے لیکن پھر بھی یہ ایک نئی اور ان دیکھی دنیا کی سمت پہلا قدم ہے۔ سائنسدانوں کو توقع ہے کہ اسی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے موجودہ جسامت کے مائیکرو پروسیسرز کی رفتار میں بھی زبردست اضافہ ممکن ہوگا۔ البتہ اس کے لیے مائیکروپروسیسر بنانے کی ٹیکنالوجی میں بھی بہت سی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔

About ZK-admin

Check Also

Plane Crash In Pakistan

پی آئی اے کا مسافر طیارہ گرکر تباہ

پی آئی اے کا مسافر طیارہ گرکر تباہ چترال سے اسلام آباد جانے والا پی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *